موجودہ دور کاسب سے بڑا المیہ ، مسائل کو حل کرنے کی ترجیح ہے- دنیا اور ملکوں پر حکمرانی کرنے والوں کو لگتا ہے کاربن گیس کا اخراج ، انسانی ذھن کے اندر سمائے گند سے زیادہ خطرناک ہے – ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات پر قابو پانے کے لئے بھر پور اقدامات ہو رھے ہیں – لیکن ذھنی آلودگی کے تدراک کی بجائے اسے مزید تقویت دی جا رھی- ھیش ٹیگ ، میمز، جھوٹ ، نفرت، پراپیگنڈا کرنے کی کھلی چھٹی ہے -انٹر نیٹ اور موبائل کے استعمال کے درجنوں ایپ روزانہ مارکیٹ میں آ رھی ہیں – انٹر نیٹ سے نہ صرف نفرت اور انتہاء پسندی کو ترویج دی جا رھی ہے بلکہ ترقی یافتہ ریاستیں باقاعدہ سائبر وار میں کود چکی ہیں – جنگلوں میں لگی آگ، سیلاب ، درجہ حرارت کی زیادتی ان کو خود سے گرائے بموں، خودکش حملوں، کروڑوں بے گھروں ، دو وقت کی روٹی اور پانی کو ترستے اربوں انسان، سائبر حملوں ، جنسی ہراسگی کا شکار ہونے والے کروڑوں بچوں اور عورتوں سے زیادہ خطرناک لگتے ہیں – ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ھر سال اوسطا ۸۵ ھزار خواتین درندگی کا شکار ہوتی ہیں- امریکہ میں ہر چھٹی عورت جنسی ھراسگی کا شکار ہوتی ہے- بھارتی فورسز نے پچھلے تین سالوں میں مقبوضہ کشمیر میں گیارہ ھزار خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا- فرانس میں ۱۹۸۰ تک ریپ جرم نہیں سمجھا جاتا تھا- اوسطا ھر سال پچھتر ھزار خواتین مردوں کی درندگی کا شکار بنتی ہیں- اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے لڑنے کے لئے پیرس کلب بھی فرانس نے ہی بنایا- رافیل طیاروں کی بھارت کو دھڑا دھڑ سپلائی بھی فرانس ہی کر رھا ہے- ایک پرائیویٹ ٹی چینل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ۲۶ اضلاع میں پچھلے چار سال میں لگ بھگ ۳۷ ھزار خواتین کو اغواء کیا گیا- خیر ہم ماحولیاتی تبدیلیوں کے لئے بھی اتنے پریشان نہیں ہیں – انسانی ذہن کے پرتشدد رویے ، ظلم اور بربریت کی داستانیں اور بپھرے دریاؤں کے سیلابی ریلے اور جنگلوں میں لگی آگ دونوں کا تدارک ضروری ھے – ذرا سوچئیے