Perspective

‏ہم چیزوں کو کیسے پیش کرتے ہیں اور کیسے دیکھتے ہیں
1.یہ80 کا ھندسہ ھے
بیس کم سو= 80
ساٹھ جمع بیس=80
بیس ضرب چار بھی = 80
2- آپ مہمان کے سامنے ٹرالی کے اوپر پلیٹیں ، کپ اور دو سموسے سجا کے لائیں تو مہمان کا تاثر اور ہو گا- اگر آپ چھوٹی پرچ میں دو سموسے ھاتھ میں پکڑ کر میز پر رکھ جائیں اور بعد میں دونوں چائے کے کپ ہاتھ میں پکڑ کر لے کر آئیں تو تاثر اور ہو گا-
سموسے تو لاھوری ہی ہیں لیکن یہ آپ پر منحصر ھے کہ آپ مہمان کو سموسے کیسے کھلاتے ہیں-
3.فرض کریں آپ شنواری کھانے تشریف لے گئے ہیں اور وہاں آپ کو کڑاھی کی جگہ ڈونگے میں شنواری پیش کی جاتی ہے، تو آپ کا غصہ بجا ہے-
4.صبح صبح اگر گوجرانوالہ کے کسی پہلوان کو لسی والے گلاس میں لسی کی جگہ آپ ایک کلو دہی کے اوپر چینی ڈال کے دے دیں تو اس کا آپ پر تشدد بنتا ھے ناں

اوپر والی تینوں ڈشوں میں اجزائے ترکیبی وہیں ہیں صرف پیش کرنے کا طریقہ مختلف ہے-
دیکھنے والے چیزوں کا اپنے نقطہ نظر سے جائزہ لیتے ہیں- یہی وہ نقطہ ہے جو پیغام دینے والے کے لئے سمجھنا ضروری ھے-

سیاسی قیادت کو اپنی ترجیحات کو عوام کی ترجیحات کے قریب لانا ضروری ھے- یہ فاصلہ ملکی استحکام کا ضامن ھے-بے روزگار اور غیر تعلیم یافتہ نوجوانوں کو غصہ دلا کر آپ کسی کو بھی گالیاں نکلوا لیں – یہ آپ کی سیاسی منطق پر منحصر ہے-

برصغیر میں ووٹنگ پیٹرن کی تبدیلی کی امید بہت بڑی غلط فہمی ثابت ہو سکتی ہے- برادری، تعلق داری، مذھبی رجحان ووٹنگ پیٹرن کی بنیاد بنتے ہیں- کسی سرکاری دفتر کے واش روم کی کنڈی خراب ہو جائے تو کئی کئی سال رسی باندھ کے گزارہ کرتے ہیں- میں چونڈہ کا رھنے والا ہوں- سیالکوٹ سے بڈیانہ سڑک کا آٹھ نو کلومیٹر کا ٹکڑا پچھلے پندرہ سال سے زبوں حالی کا شکار ہے، ٹھیک نہیں ہو پایا- لہذا ووٹنگ پیٹرن میں تبدیلی کی امید سوالیہ نشان ہے-
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا سوشل میڈیا ٹرینڈز ووٹ میں تبدیل ھو پائے گا